اِس کا کیا مطلب ہے کہ یسوع خدا کا بیٹا ہے؟




سوال: اِس کا کیا مطلب ہے کہ یسوع خدا کا بیٹا ہے؟

جواب:
جواب: یسوع انسانی باپ اور بیٹے کی سمجھ میں خدا کا بیٹا نہیں ہے ۔ خدا نے شادی نہیں کی اور بیٹے کو نہیں رکھتا تھا ۔ خداوند نے مریم کے ساتھ شادی نہیں کی اور ، اکٹھے اُس کے ساتھ ، بیٹے کو پیدا نہیں کیا ۔ یسوع اِس سمجھ میں خدا کا بیٹا ہے کہ وہ انسانی شکل میں آشکارہ کیا گیا خدا ہے ۔ یسوع خدا کا بیٹا ہے کیونکہ روح القدس کی قدرت سے کنوری مریم سے پیدا ہوا ، لوقا 1 : 35 بیان کر تی ہے کہ ، " اور فرشتہ نے جواب میں اُس سے کہا کہ روح القدس تُجھ پر نازل ہو گا اور خدا تعالیٰ کی قدرت تُجھ پر سایہ ڈالے گی اور اِس سبب سے وہ مولودِ مقدس خدا کا بیٹا کہائے گا ۔"

یہودی راہنماوں سے آزمائے جانے سے پہلے ، سردار کاہن نے یسو ع کو طلب کیا ، " میں تُجھے زندہ خدا کی قسم دیتا ہوں کہ اگر تو خدا کا بیٹا مسیح ہے تو ہم سے کہہ دے " ( متی 26 : 36 ) ۔ یسوع نے جواب میں اُس سے کہا " تُو نے خود کہہ دیا بلکہ میں تُم سے سچ کہتا ہوں ک اِس کے بعد تُم ابنِ آدم کو قادرِ مطلق کی دہنی طرف بیٹھے اور آسمان کے بادلوں پر آتا دیکھو گے ۔ " ( متی 26 : 64 ۹ ۔ یہودی سرداروں نے یسوع کے کفر بکنے پر اپنے کپڑے پھاڑنے سے جواب دیا ( متی 26 : 65 ۔66 )۔ بعد ازاں ، پینطوس پِلاطوس کے سامنے ، " یہودیوں نے اُسے جواب دیا کہ ہم ایلِ شریعت ہیں اور شریعت کے موافق وہ قتل کے لائق ہے کیونکہ اُس نے اپنے آپ کو خدا کا بیٹا بنایا ۔ " ( یوحنا 19 : 7 ) ۔ کیوں اُس کا خدا کے بیٹے کے طور پر دعویٰ کرنا کفر اور موت کی سزا کے حکم کے قابل قیاس کیا گیا ؟ یہودی سردار وں نے درست طور پر سمجھا جو یسوع کا اِس جُملے " خدا کا بیٹا" کا مطلب تھا ۔ خدا کا بیٹا وہی فطرت ہے جیسے خدا کی فطرت ہے ۔ خدا کا بیٹا " خدا " ہے ۔ خدا کی فطرت کے طور پر ہونے کا دعوی کرنا ، درحقیقت خدا بننا یہودی سرداروں کے لیے کفر تھا ، اس لیے ، اُنہوں نے یسوع کی موت کا تقاضا کیا ، احبار 24 : 15 کو جاری رکھتے ہوئے۔ عبرانیوں 1 : 3اِسے بہت واضح طور پر بیان کر تی ہے ، " وہ اُس کے جلال کا پر تو اور اُس کی ذات کا نقش ہو کر سب چیزوں کو اپنی قدرت کے کلام سے سنبھالتا ہے ۔"

ایک اور مثال کو یوحنا 17 : 12 میں پایا جا سکتا ہے جہاں یہودہ کو " ہلاکت کے فرزند" کے طور پر بیان کیا گیا ہے ۔ یوحنا 6 : 71 ہمیں بتاتی ہے کہ یہودا شعمون کا بیٹا تھا ۔ یوحنا 17 : 12 کا یہودا کو " ہلاکت کا فرزند " کے طور پر بیان کرنے کا کیا مطلب ہے ؟ لفظ ہلاکت کا مطلب ' تباہی ، بربادی ، کھنڈر ' ہے۔ یہوداہ " تباہی ، بربادی ، اور کھنڈر کا لغوی بیٹا نہیں تھا ، بلکہ اُن چیزوں کی شناخت یہوداہ کی زندگی کے ساتھ تھی ۔ یہوداہ ہلات کا ظہور تھا ۔ بالکل اِسی طرح ، یسوع خدا کا بیٹا ہے ۔ خدا کا بیٹا خدا ہے ۔ ۔ یسوع خدا کے طور پر عیاں ہے ( یوحنا 1 : 1 ، 14 ) ۔



واپس اردو زبان کے پہلے صفحے پر



اِس کا کیا مطلب ہے کہ یسوع خدا کا بیٹا ہے؟