يسوع كو كيوں مرنا پڑا؟




سوال: يسوع كو كيوں مرنا پڑا؟

جواب:
خُدا نے زمين اور انسان كامل طور بنائے۔ليكن جب آدم اور حوا نے خُدا كے حُكم كي نافرماني كي۔ اُسے اُن كو سزا ديني پڑي۔مُنصف جو قانون شكني كرنے والے كو معاف كرتا هے وه اچھا مُنصف نهيں هے۔ اِسي طرح گُناه كو نظرانداز كرنے والا ُپاك خُدا كو ناراست بناتا هے ۔ دوزخ ميں موت گُناه كے لئے ا ﷲكي راست صُورتحال هے۔٫٫گُناه كي سزاموت هے٬٬﴿روميوں ٦:٣٢﴾۔حتي كه نيك كام پاك خُدا كے خلاف خطائوں كا كفاره نهيں هوسكتے۔ اُس كي نيكي سے موازنه كرتے هوئے٫٫هماري تمام راستبازي ناپاك لباس كي مانند هے٬٬ ﴿يسعياه ٤٦:٦ب﴾

آدم كے گُناه سے اب تلك ، هر انسان خُدا كي راست شريعت سے نافرماني كا قصُوروار هے۔٫٫كيونكه سب نے گُناه كيا اور خُدا كے جلال سے محروم هوئے٬٬۔﴿روميوں ٣:٣٢﴾۔گُناه محض بڑي چيزيں جيسے كه قتل يا توهين نهيں بلكه اِس ميں جھوٹ بولنا، لالچ كرنا اور چوري كرنا بھي شامل هے۔ حتي كه روپے پيسے كا حرص يا دُشمنوںسے نفرت بھي گُناه هے۔ گُناه كے سبب، هر كوئي موت كا حقدار هے ۔۔يعني دوزخ ميں خُدا سے هميشه كي عليحدگي۔

پاك موت كے لئے ضروري وعده

حالانكه خُدا نے آدم اور حوا كو باغ سے نكال ديا، ليكن اُس نے اُنهيں جنت الفردوس كي اُميد سے دستبردار نهيں كيا۔ اُس نے وعده كيا كه وه پاك كو قُرباني كے لئے بھيجے گا تا كه وه ان كي سزا لے لے﴿پيدائش ٣:٥١﴾۔ تب تك، لوگ معصوم بروں كو اپني سزا كے متبادل كے طور پر قربان كريں۔ جانوروں كي قرباني انسانوں كا اقرار ظاهر كرتي هے كه اُن كے گُناهوں كي سزا موت هے، اُس گُناه سے توبه اور خُدا كي طرف سے مُستقبل كي قرباني ميں ايمان جو اُن كي سزا برداشت كرے گا۔ خُدا دوباره اپني كامل قرباني كے وعده كي تصديق اپنے بندوں ابراهام﴿ابراهيم﴾ اور موسيٰ كے ذريعے كرتا هے

نبيوں نے يسوع كي موت كي پيشنگوئي كي

آدم سے عيسيٰ تك، خُدا نے انسانوں كے لئے نبي بھيجے، اُنهيں گُناه كي سزا سے خبردار كرتے هوئے اور آنے والے مُنجي كي پهلے سے خبر ديتے هوئے۔ مُنجي كے پيدا هونے سے سات سو برس قبل، يسعياه نبي نے يوں بيان كيا:

٫٫همارے پيغام پر كون ايمان لايا؟ اور خُداوند كا بازو كِس پر ظاهر هوا؟پر وه اُس كےآگے كونپل كي طرح اور خشك زمين سے جڑ كي مانند پھوٹ نكلا هے۔نه اُسكي كوئي شكل و صورت هے نه خُوبصورتي اور جب هم اُس پر نگاه كريں تو كُچھ حسن و جمال نهيں كه هم اُسكے مشتاق هوں ۔ وه آدميوں ميں حقير و مردُود۔مرد غمناك اور رنج كا آشناتھا۔ لوگ اُس سے گويا رُوپوش تھے اُسكي تحقير كي گئي اور هم نے اُسكي كُچھ قدر نه جاني۔ تو بھي اُس نے هماري مشقيں اُٹھا ليں اور همارے غموں كو برداشت كيا۔ پر هم نے اُسے خُدا كا مارا كوٹا اور ستايا هوا سمجھا۔حالانكه وه هماري خطائوں كے سبب سے گھائل كيا گيااور هماري بدكرداري كے باعث كُچلا گيا۔ هماري هي سلامتي كے لئے اُس پر سياست هوئي۔تا كه اُسكے مار كھانے سے هم شفا پائيں۔هم سب بھيڑوں كي ماندد بھٹك گئے۔هم ميں سے هر ايك اپني راه كو پھر ا پر خُداوند نے هم سب كي بدكرداري اُس پر لادي۔

وه ستايا گيا تو بھي اُس نے برداشت كي اور مُنه نه كھولا۔ جس طرح بره جسے ذبح كرنے كو لے جاتے هيںاور جس طرح بھيڑاپنے بال كُترنے والوں كے سامنے بے زُبان هے اُسي طرح وه خاموش رها۔وه ظلم كركے اور فتويٰ لگا كر اُسے لے گئے پر اُسكے زمانه كے لوگوں ميں سے كس نے خيال كيا كه وه زندوں كي زمين سے كاٹ ڈالا گيا؟ ميرے لوگوں كي خطائوں كے سبب سے اُس پر مار پڑي۔ اُسكي قبر بھي شريروں كے درميان ٹھهرائي گئي اور وه اپني موت ميں دولتمندوں كے ساتھ هوا حالانكه اُس نے كسي طرح كا ظلم نه كيا اور اُسكے منه ميں هر گز چھل نه تھا۔

ليكن خُداوند كو پسندآيا كه اُسے كُچلے۔اُس نے اُسے غمگين كيا۔جب اُسكي جان گُناه كي قُرباني كے لئے گُذراني جائيگي تو وه اپني نسل كو ديكھيگا۔اُسكي عُمر دراز هوگي اور خُداوند كي مرضي اُسكے هاتھ كے وسيله سے پوري هوگي ۔اپني جان هي كا دُكھ اُٹھا كر وه اُسے ديكھيگااور سير هوگا۔اپنے هي عرفان سے ميرا صادق خادم بهتوں كو راستباز ٹھهرائيگا كيونكه وه اُنكي بدكرداري خُود اُٹھائيگا، اِسلئے ميں اُسے بزرگوں كے ساتھ حصّه دُونگا اور اور وه لوٹ كا مال زور آوروں كے ساتھ بانٹ ليگا كيونكه اُس نے اپني جان موت كے لئے اُنڈيل دي اور وه خطا كاروں كے ساتھ شُمار كيا گيا تو بھي اُس نے بهتوں كے گُناه اُٹھا لئے اور خطا كاروں كي شفاعت كي٬٬ ۔ ﴿يسعياه ٣٥:٢١۔١﴾۔

نبي نے آنے والي قرباني كا برے سے موازنه كيا جو دوسروں كے گُناهوں كے لئے قربان هوا۔

صديوں بعد، يسعياه كي پيشنگوئي كامل خُداوند يسوع كي صُورت ميں پوري هوئي، جو كنواري مريم سے پيدا هوا۔ يسوع كا كوئي دُنياوي باپ نه تھا، كيونكه وه خُدا سے تھا۔جب نبي يوحنا اصطباغي نے اُسے ديكھا، تو وه چلايا، ٫٫ديكھو، خُدا كا بره، جو جهان كے گُناهوں كو اُٹھا لے جاتا هے٬٬﴿يوحنا ١:٩٢﴾۔

خُدا نے گناهوں كے لئے يسوع كي قرباني دي:

يسوع كو دُنيا ميں بھيجنے سے خُدا نے گناهوں كے لئے منجي بھيجنے كا اپنا وعده پورا كرديا۔ همارے برعكس، يسوع نے كبھي گُناه نه كيا۔ پس، خُدا نے يسوع كي قرباني بطور همارے كامل متبادل كے دي۔ اُس نے وه سزا اپنے سر لي جو گناهوں كے موجب همارا حق تھا:يعني موت۔ ٫٫جو﴿يسوع﴾ گُناه سے واقف نه تھا اُسي كو اُس نے همارے واسطے گُناه ٹھهرايا تا كه هم اُس ميں هوكر خُدا كي راستبازي هو جائيں٬٬﴿دُوسرا كرنتھيوں ٥:١٢﴾۔ پس، يسوع نبي سے بھي كهيں بڑھ كر تھا، خُدا نے اُسے منجي اور خُداوند بنايا۔﴿ديكھئے فلپيوں ٢:٦۔١١﴾۔

اُس كي زندگي ميں، هجوم شفا اور تعليم كے لئے اُس پر ٹوٹتے تھے، ليكن مذهبي رهنمائوں نے اُسے حقارت سے ديكھا۔ خُدا كے مقرره وقت پر ، اُس نے گناهوں كي قرباني كے لئے يسوع كو ديا۔ هجوم چلاتے تھے، ٫٫اِسے صليب دو٬٬، سپاهيوں نے اُسے كوڑے مارے، ٹھٹھا اُڑايا، اور اُسے مصلوب كيا۔ جيسے يسعياه نے پيشنگوئي كي تھي كه يسوع دو مجرموں كے درميان مصلوب هوا اور امير آدمي كي قبر ميں دفن هوا۔ ليكن وه قبر ميں نه رها۔ كيونكه خُدا نے اُس كي قرباني قبول كي۔ اُس نے ايك اور نبوت پوري كي يعني يسوع كو مردوں ميں سے جلايا﴿زبور ٦١:٠١؛ يسعياه ٦٢:٩١﴾۔

عيسيٰ / يسوع كو كيوں موت قبول كرنا پڑي

يسوع كو موت قبول كرنا پڑي كيونكه هم جنت الفردوس ميں اپنے كاموں كي بدولت نهيں جا سكتے۔ ياد ركھيں، پاك خُدا گُناه كو بغير سزا كے نهيں رهنے ديتا۔ اگر هم اپنے گُناه برداشت كريں، تو هم دوزخ كي آگ ميں سزا كاٹيں۔ خُدا كي تمجيد هو، اُس نے اپنا وعده قائم ركھا اور كفارے كي قرباني كے لئے بھيجاجس نے اُن كے گُناه اُٹھا لئے جو اُس پر بھروسه ركھتے هيں۔

انجيل شريف ﴿بائبل﴾ فرماتي هے، ٫٫كيونكه جب هم كمزور هي تھے تو عين وقت پر مسيح بے دينوں كي خاطر موا۔ كسي راستباز كي خاطر بھي مشكل سے كوئي اپني جان ديگا مگر شايد كسي نيك آدمي كے لئے كوئي اپني جان تك دے دينے كي جرات كرے۔ ليكن خُدا اپني محبت كي خوبي هم پر يوں ظاهر كرتا هے كه جب هم گنهگار هي تھے تو مسيح هماري خاطر موا۔ پس جب هم اُسكے خون كے باعث راستباز ٹھهرے تو اُسكے وسيله سے غضب الهي سے ضرور هي بچينگے۔ كيونكه جب باوجود دُشمن هونے كے خُدا سے اُسكے بيٹے كي موت كے وسيله سے همارا ميل هوگيا تو ميل هونے كے بعد تو هم اُسكي زندگي كے سبب سے ضرور هي بچينگے۔ اور صرف يهي نهيں بلكه اپنے خُداوند يسوع مسيح كے طُفيل سے جسكے وسيله سے اب همارا خُدا كے ساتھ ميل هوگيا خُدا پر فخر بھي كرتے هيں۔پس جس طرح ايك آدمي كے سبب سے گناه دُنيا ميں آيا اور گناه كے سبب سے موت آئي اور يوں موت سب آدميوں ميں پھيل گئي اِس لئے كه سب نے گناه كيا٬٬۔

٫٫غرض جيسا ايك گناه كے سبب سے وه فيصل هوا جسكا نتيجه سب آدميوں كي سزا كا حُكم تھا ويسا هي راستبازي كے ايك كام كے وسيكه سے سب آدميوں كو وه نعمت ملي جس سے راستباز ٹھهر كر زندگي پائيں۔ كيونكه جس طرح ايك هي شخص كي نافرماني سے بهت سے لوگ گنهگار ٹھهرے اُسي طرح ايك كي فرمانبرداري سے بهت سے لوگ راستباز ٹھهرينگے۔اور بيچ ميں شريعت آ موجود هوئي، تا كه گُناه زياده هوجائے مگر جهاں گُناه زياده هوا وهاں فضل اُس سے بھي نهايت زياده هوا۔تا كه جس طرح گناه نے موت كے سبب سے بادشاهي كي اُسي طرح فضل بھي همارے خُداوند يسوع مسيح كے وسيله سے هميشه كي زندگي كے لئے راستبازي كے ذريعه سے بادشاهي كرے٬٬۔﴿روميوں٥:٦۔٢١؛ ٨١۔١٢﴾۔

اِس لئے يسوع كو موت قبول كرنا پڑي تا كه جنت الفردوس كے لئے واحد راسته مهيا كرسكے۔ اگر آپ ايمان ركھتے هيں كه يسوع آپ كي نجات كے لئے موا اور جي اُٹھا، تو اپني بُري روشوں سے مُڑيں اور اكيلے يسوع پر بھروسه كريں اُس كي پيروي بطور پيارے خُداوند كے كريں ، كيونكه وه آپ كو اپنے كلام بائبل كے وسيلے سے مضبوط كرے گا

اگر ایسا ہے، تو برائے مہربانی دبائیں "آج میں نے مسیح کو قبول کرلیا"نیچے دئیے گئے بٹن کو



واپس اردو زبان کے پہلے صفحے پر



يسوع كو كيوں مرنا پڑا؟