کس نے خدا کو خلق کیا ؟ خداوند کہاں سے آیا تھا؟




سوال: کس نے خدا کو خلق کیا ؟ خداوند کہاں سے آیا تھا؟

جواب:
خدا کو نہ ماننے والوں اور مشرکین کی طرف سے ایک عام دلیل یہ ہے کہ اگر سب چیزوں کو ظہور میں لانے کی ضرورت ہے ، پھر خدا کو بھی ظہور میں لانے کی ضررت ہے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ اگر خدا کو ظہور کی ضرورت تھی ، پھر خدا خدا نہ ہوتا ( اور اگر خدا خدا نہ ہوتا ، پھر بلا شُبہ یہاں خدا نہ ہوتا )۔ یہ بنیادی سوال " کس نے خدا کو پیدا کیا " سے تھوڑا سا غلط استدلال سے کام لیتا ہے ۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ کوئی چیز کسے کے نہ ہونے سے نہیں آتی ۔ اِس طرح، اگر خدا " کوئی چیز " ہے ، پھر ، پھر وہ لازما ظہور رکھتا ، ٹھیک؟

سوال بہت فریب دینےوالا ہے کیونکہ یہ جھوٹے مفروضے سے نکلتا ہے کہ خدا کسی جگہ سے آیا اور پھر پوچھتا ہے کہ کہاں وہ ہو سکتا ہے ۔ جواب یہ ہے کہ سوال کچھ سمجھ نہیں بناتا ۔ یہ اِس طرح پوچھنا ہے کہ ، " نیلی خوشبو کس کی مانند ہے ؟" نیلا چیزوں کی قسم نہیں ہے جو خوشبو رکھتی ہے ،اِس طرح سوال بذات خود غلط ہے ۔ بالکل اِسی طرح ، خدا چیزوں کی قسم میں نہیں ہے جنہیں تخلیق یا ظہور میں لایا جا سکے ۔ خدا بغیر ظہور کے اور نا آفریدہ ہے ۔ وہ سادہ طرح وجود رکھتا ہے ۔

کیسے ہم یہ جانتے ہیں ؟ ہم جانتے ہیں کہ کسی کسی چیز سے نہیں آتا ۔ اِس طرح ، اگر یہاں کبھی اوقات تھے جب یہاں بالکل کچھ نہیں تھا ، پھر کسی چیز کو وجود میں نہیں آنا تھا۔ لیکن چیزیں وجود رکھتی ہیں ۔ اِس لیے ، اُس وقت سے یہاں بالکل کچھ نہیں ہو سکتا تھا ۔ کسی چیز کو ہمیشہ وجود رکھنا تھا ۔ یہ ہمیشہ وجود رکھنے والی چیز یہ ہے جسے ہم خدا کہتے ہیں ۔ خداوند نا آفریدہ مخلوق ہے جو ہر چیز کو وجود رکھنے کا سبب ہے ۔ خدا نا آفریدہ تخلیق کار ہے جس نے کائنات اور اِس میں ہر چیز کو خلق کیا ۔



واپس اردو زبان کے پہلے صفحے پر



کس نے خدا کو خلق کیا ؟ خداوند کہاں سے آیا تھا؟