كلامِ مقدس كے مطابق جسم پر نقوش /جسم كو چھيدوانے كے بارے ميں كيا كهتا هے؟




سوال: كلامِ مقدس كے مطابق جسم پر نقوش /جسم كو چھيدوانے كے بارے ميں كيا كهتا هے؟

جواب:
پرانے عهدنامے کے قانون میں اسرائیلیوں کو حکم دیا گیا، "تم مُردوں کے سبب سے اپنے جسم کو زخمی نه کرنا اور نه اپنے اوپر کچھ گُدوانا۔ میں خداوند هوں"﴿احبار19باب28آیت﴾۔ اگرچه، آج کے ایماندار پرانے عهدنامے کے قانون کے تابع نهیں هیں﴿رومیوں10باب4آیت؛ گلتیوں3باب23تا25آیت؛ افسیوں2باب15آیت﴾، حقیقت میں وهاں پر جسم پر نقوش بنوانے کے خلاف حکم تھا همارے لئے سوال کی وجه بنتا هے۔ نیا عهدنامے کچھ نهیں کهتا که ایماندار کو جسم پر نقوش بنوانے چاهیے یا نهیں۔

جسم پر نقوش بنوانے یا چھیدوانے کے تعلق سے ، ایک اچھے امتحان سے معلوم کیا جاسکتا هے که هم ایمانداری سے ، اچھے ایمان سے، خدا سے کهیں که وه آپ کو برکت دے اور آپ کی مخصوص حرکات کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کرے۔ "پس تم کھاؤیا پیو یا جو کچھ کرو سب خدا کے جلال کے لئے کرو"﴿1۔کرنتھیوں10باب31آیت﴾۔ نیا عہد نامہ جسم کو چھیدوانے اور نقوش بنوانے کے بارے میں حکم نهیں دیتا ، لیکن یه همیں کوئی معقول وجه بھی نهیں دیتا هے که هم جسم پر نقوش بنوانے یا جسم چھیدوانے سے خدا پر ایمان رکھیں۔

ایک اور مسئله جو زیر غور هے وه هے شرم وحیا۔ کلام مقدس همیں هدایت دیتا هے که هم حیا دار لباس زیب تن کریں ﴿1۔تیمتھس2باب9آیت﴾۔ حیادار لباس پهننے کی ایک هی وجه سب کچھ واضع کر دیتی هے که کپڑوں کے ذریعے پورے طور پر ڈھکا هونا چاهیے۔ بهرحال، حیادار لباس پهننے کا یه مطلب نهیں که اپنے آپ کو توجه مرکوز کروانے کے لئے بنایا سنوارا جائے۔ وه لوگ جو اپنے آپ کو حیادار لباس سے سنوارتے هیں وه اپنے آپ پر توجه مرکوز نهیں کرواتے۔ جسم پر نقوش بنوانا اور جسم کو چھیدوانا لازمی طور پر اپنی طرف توجه مرکوز کروانے کے لئے هوتا هے۔ اسطرح، جسم پر نقوش بنوانا اور جسم چھیدوانا با حیا طریقه نهیں۔

اس مسئله پر نوشتوں کے اهم اصول جن میں کلامِ مقدس خاص طور پر نهیں بتاتا که اگر یهاں شک کی کوئی گنجائش هے جس سے خدا خوش هوتا هے، تو پھر یه بهتر هے که ایسی حرکات کی طرف متوجه نه هوا جائے۔ "مگر جو کوئی کسی چیز میں شبه رکھتا هے اگر اس کو کھائے تو مجرم ٹھهرتا هے اس واسطے کے وه اعتقاد سے نهیں کھاتا اور جو کچھ اعتقاد سے نهیں وه گناه هے"﴿رومیوں14باب23آیت﴾۔ همیں یاد رکھنے کے ضرور ت هے که همارے جسم مزید برآں هماری روحوں کو خریدا گیا هے ان کا خدا کے ساتھ تعلق هے۔ اگرچه 1۔کرنتھیوں6باب19تا20آیت برائے راست جسم پر نقوش بنوانے یا جسم کو چھیدوانے کو بیان نهیں کرتی، پر همیں ایک اصول دیتی هے ، "کیا تم نهیں جانتے که تمهارا بدن روح القدس کا مقدس هے جو تم میں بسا هوا هے اور تم کو خدا کی طرف سے ملا هے ؟ اور تم اپنے نهیں۔ کیونکه قیمت سے خریدے گئے هو۔ پس اپنے بدن سے خدا کا جلال ظاهر کرو"۔ یه عظیم سچ همیں حقیقی طرز عمل بتاتا هے که هم نے کیا کرنا هے اور هم نے اپنے جسموں کے ساتھ کهاں جانا هے اگر همارے جسم خدا کے ساتھ تعلق رکھتے هیں توهمیں یه یقینی طور پر جاننا چاهیے که همارے پاس اسکی واضع "اجازت"هے که اس سے پهلے که هم"اپنے جسم پر نشان بنوائیں"نقوش کے ساتھ یه جسم کو چھیدوانے سے۔



واپس اردو زبان کے پہلے صفحے پر



كلامِ مقدس كے مطابق جسم پر نقوش /جسم كو چھيدوانے كے بارے ميں كيا كهتا هے؟