نجات میں خُدا کی بادشاہی اور بنی نوع انسان کی آزادانہ مرضی کس طرح اکٹھے کام کرتیں ہیں ؟




سوال: نجات میں خُدا کی بادشاہی اور بنی نوع انسان کی آزادانہ مرضی کس طرح اکٹھے کام کرتیں ہیں ؟

جواب:
خُدا کی بادشاہی اور بنی نوع انسان کی آزادانہ مرضی اور ذمہ داری کے درمیان رشتہ کو مکمل طو ر پر سمجھنا ہمارے لئیے ناممکن ہے ۔ صرف حقیقی طور پر خُدا ہی جانتا ہے کہ وُہ کس طرح اُس کے نجات کے منصوبے میں اکٹھے کام کرتے ہیں ۔ غالباً اِس معاملے سے زیادہ کسی دوسرے عقیدے سے بڑھ کر یہ ہے کہ خُدا کی قدرت اور اُس کے ساتھ ہمارے رشتہ کی مکمل گرفت کی نااہلیت کو قبول کرنا نہایت اہم ہے ۔ نجات کی غلط بیان کر دہ سمجھ بوجھ میں ہر پہلو کے نتائج بہت دور تک چلے جاتے ہیں ۔

کلام واضح کرتا ہے کہ خُدا جانتا ہے کہ کون نجات پائے گا (رومیوں 8:29، 1 پطرس 1:2) افسیوں 1 باب اُسکی 4 آیت ہمیں بتاتی ہے کہ خُدا نے ہمیں بناء عالم سے بیشتر " ہمیں چُن لیا تھا۔ بائیبل بار بار ایمانداروں کو "چُنے ہوئے" کے طور پر بیان کرتی ہے ۔ (رومیوں 8:33) 11:5، افیسوں 1:11، کلسیوں 3:12، رومیوں 11:7، 1تیمتھیس 5:21، 11تیمتھسیں 2:10، ططس 1:1، ۱ پطرس 1:1) حقیقت یہ ہے کہ ایماندار پہلے سے مقرر شدہ ہیں (رومیوں 30 ، 29:8، افسیوں 11 ، 1:5) اور نجات کے لیے اِن کا مقرر ہونا نہایت واضح ہے (رومیوں 9:11، 28:11، 11۔پطرس 1:10 )

بائیبل یہ بھی کہتی ہے کہ ہم مسیح کو نجات دہندہ کے طور پر قبول کرنے کے ذمہ دار ہیں ، ہمیں یہ سب مسیح یسوع میں ایمان رکھ کے کرنا ہوگا اور ہم نجات یافتہ بن جائںں گے (یوحنا 3:16، رومیوں 10-10:9) ۔ خُدا جانتا ہے کہ کون نجات پائے گا، خُدا اُن کو چُنتا ہے جو نجات پائیں گے اور ہمیں نجات پانے کی خاطر مسیح کو چُن لینا چاہیے ۔ ایک محدود ذہن کے لیے یہ سمجھنا ناممکن ہے۔ کہ یہ تینوں ھقاءق کس طرح کام کرتے ہیں ۰رومیوں 36-11:33) ہماری ذمہ داری تمام دُنیا میں انجیل کو پھیلانا ہے ۔ (متی 20-28:18، اعمال 1:8) ۔ ہمیں پیش علمی ، انتخاب اور پہلے سے مقرر ہونا خُدا پر چھوڑ دینا چاہیے اور سادگی سے انجیل کی منادی کی تابعداری کرنی چاہیے۔



واپس اردو زبان کے پہلے صفحے پر



؟ کس طرح ہم روُح القدس حاصل کرتے ہیں