کیا ایک بار نجات پا لینا ہمیشہ کے لئے نجات پالینا ہوتا ہے؟



سوال: کیا ایک بار نجات پا لینا ہمیشہ کے لئے نجات پالینا ہوتا ہے؟

جواب:
کیا ایک بار ایک شخص نجات حاصل کر لیتا ہے تو کیا وہ ہمیشہ کے لئے بچ جاتا ہے؟ جب لوگ یسوع مسیح کو نجات دہندہ بطور جاننے لگتے ہیں تو وہ خدا کے ساتھ رشتہ میں لائے جاتے ہیں تو وہ ان کی نجات کی ذمہ داری لیتا ہے یعنی کہ وہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جاتے ہیں۔ پاک کلام کے بے شمار اوراق اس حقیقت کا اعلان کرتے ہیں:

(1) رومیوں 8:30 اعلان کرتا ہے کہ ’’اور جن کو اس نے پہلے سے مقرر کیا ان کو بلایا بھی اور جن کو بلایا ان کو راستباز بھی ٹہرایا اور جنکو راستباز ٹہرایا انکو جلال بھی بخشا۔‘‘ یہ آیت ہم سے کہتی ہے کہ جس لمحہ خدا ہم کو چُنتا ہے ویسے ہی ہم آسمان میں اس کی حضوری میں جلالی ہو جاتے ہیں۔ اس طرح جلالی ہونے کے لئے ایماندار کو کوئی بھی چیز روک نہیں سکتی کیونکہ خدا نے پہلے سے ہی اسے آسمان میں مقرر کر چکا ہے۔ ایک بار جب ایک ایماندار راستباز ٹہرایا جاتا ہے تو اس کی نجات پکی ہو جاتی ہے اور خدا اس کا ضامن ٹھہرتا ہے۔ وہ اسی طرح محفوظ ہے جس طرح اس کو آسمان میں پہلے سے ہی جلال بخشا جا چکا ہے۔

(2) رومیوں 8:33-34 میں پولس دو معیاری سوال کرتا ہے ’’خدا کے بزرگوں پر کون نالش کرے گا؟ خدا وہ ہے جو ان کو راستباز ٹہراتا ہے۔ کون ہے جو مجرم ٹہرائے گا؟ مسیح یسوع وہ ہے جو مر گیا بلکہ مُردوں میں سے جی بھی اٹھا اور خدا کی دہنی طرف ہے اور ہماری شفاعت بھی کرتا ہے۔‘‘ پولس سوال کرتا ہے کہ خدا کے چنائو پر کون ہم پر تہمت لگا سکتا ہے؟ کوئی نہیں لگا سکتا، کیونکہ مسیح ہمارا وکیل ہے۔ کون ہم پر نالش کر سکتا ہے؟ کوئی نہیں، کیونکہ مسیح وہ ہے جو ہمارے لئے مرا۔ وہ ہماری شفاعت کرتا ہے، ہمارے پاس ہمارا نجات دہندہ بطور وکیل بھی ہے اور جج بھی۔

(3) ایماندار لوگ نئے سِرے سے پیدا ہوئے ہوتے ہیں۔ (روحانی اعتبار سے نیا جنم لئے ہوئے ہوتے ہیں) جب وہ ایمان لاتے ہیں (یوحنا 3:3؛ ططس 3:5)۔ ایک مسیحی کے لئے اپنے ایمان کو کھونے کا مطلب ہے وہ نئے سرے سے پیدا نہیں ہیں ہوا تھا اور نہ اس نے دل سے مسیح یسوع پر ایمان لایا تھا۔ پاک کلام کوئی ثبوت پیش نہیں کرتی کہ ایک مسیحی کے نئے جنم کو واپس لے لیا گیا۔

(4) روح القدس تمام ایمان داروں میں سکونت کرتا ہے (یوحنا 14:17؛ رومیوں 8:9) اور وہ مسیح کے بدن میں ہوکر بپتسمہ دیتا ہے (1 کرینتھوں 12:13)۔ ایک ایماندار غیر نجات یافتہ تب ہوتا ہے جب روح القدس اس میں سکونت نہیں کرتا اور وہ مسیح کے بدن سے خارج کر دیا جاتا ہے۔

(5) یوحنا 3:15 بیان کرتا ہے کہ جو مسیح یسوع پر ایمان لاتا ہے اس کو ’’ہمیشہ کی زندگی‘‘ نصیب ہوتی ہے۔ اگر آج آپ مسیح پر ایمان لاتے ہیں اور ہمیشہ کی زندگی حاصل کرتے ہیں مگر کل آپ اُسے کھو سکتے ہیں۔ تب وہ کبھی بھی ابدی نہیں کہلائے گا۔ چنانچہ اگر آپ اپنی نجات کو کھو دیتے ہیں تو ہمیشہ کی زندگی کا وعدہ بائیبل میں غلط ثابت ہوگا۔

(6) سو بحث کے سب سے آخری نتیجہ میں سوچتا ہوں کہ کلام پاک خود ہی بہترین طریقہ سے اس کا جواب دیتا ہے کہ ’’کیونکہ مجھ کو یقین ہے کہ خدا کی محبت ہمارے خداوند یسوع مسیح میں ہے اس سے ہم کو نہ موت جُدا کر سکے گی، نہ زندگی، نہ فرشتے، نہ حکومتیں، نہ حال کی، نہ استقبال کی چیزیں، نہ قدرتیں، نہ بلندی، نہ پستی، نہ کوئی اور مخلوق‘‘ (رومیوں 8:38-39) یاد رکھیں کہ وہ خدا جس نے آپ کو نجات دی ہے وہی آپ کو تھامے گا اور سنبھالے گا۔ سو جب ہم ایک بار بچائے جاتے اور ہمارا نجات ہو جاتا ہے تو ہم ہمیشہ کے لئے بچائے جاتے اور ہمارا نجات ہو جاتا ہے۔ ہماری نجات پورے یقینی طور سے ہمیشہ کے لئے محفوظ ہے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



کیا ایک بار نجات پا لینا ہمیشہ کے لئے نجات پالینا ہوتا ہے؟