کیا ہزار سالہ بادشاہت لغوی معنوں میں یا اعداد و شمار کے حساب سے ہے ؟




سوال: کیا ہزار سالہ بادشاہت لغوی معنوں میں یا اعداد و شمار کے حساب سے ہے ؟

جواب:
ہزار سالہ بادشاہت زمین پر یسوع مسیح کی ہزار سالہ بادشاہت کا عنوان ہے ۔ کچھ لوگ ہزار سال کی تمثیلی لحاظ سے وضاحت کرتے ہیں ۔ کچھ لوگ ہزار سالوں کو محض " وقت کا ایک لمبا عرصہ" کہنے کے لیے ایک عددی طریقہ سمجھتے ہیں کہ لغوی معنوں میں زمین پر مسیح کی جسمانی طور پر بادشاہت کو سمجھتے ہیں ۔ تاہم مکاشفہ 20: 2-7 آیات میں ہزار سالہ بادشاہی کو 6بار ہزار سال لمبے عرصہ کو کہا گیا ہے ۔ اگر خدا " وقت کے ایک لمبے عرصے " کو بیان کرنا چاہتا تھا تو وہ ایسا بڑی آسانی سے ایک ٹھیک وقت کے تصور کے اور قطعی طور پر بار بار دہرانے کے بغیر کر سکتا تھا ۔

بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ جب مسیح دوبارہ واپس زمین پر آتا ہے تو وہ داود کے تخت پر بیٹھ کر یروشلم میں اپنے آپ کو ایک بادشاہ کے طور پر مضبوط کرے گا ۔ ( لوقا 1 : 32 ۔ 33) غیر مشروط عہد بادشاہی کے قیام کے لیے مسیح کی ہو بہو اور جسمانی واپسی کا تقاضا کرتے ہیں ۔ ابراہام کا عہد اسرائیل کے لیے ایک وطن ایک آنے والی نسل اور حکمران اور ایک روحانی برکت کا وعدہ کرتا ہے ( پیدائش 12 : 1-3 ) فلسطنیوں کا عہد اسرائیل سے ملک پر دوبارہ واپسی اور وطن پر قبضے کا وعدہ کرتا ہے ( استثنا 30: 1-10 ) داود کا عہد اسرائیل سے معافی ، اِس کا مطلب ہے کہ جس کے سبب قوم برکت پائے گی ۔ ( یرمیا ہ 31 : 31-34)

آمد ِ ثانی پر یہ عہد پورے ہوں گے جیسے ہی اسرائیل قوموں میں سے دوبارہ اکٹھی ہو گی ( متی 24: 31) ۔ خدا کی طرف رجوع کرنے کے لیے ( زکریاہ 12 : 10-14)اور مسیح کی یعنی یسو ع مسیح کی حکومت میں مُلک پر دوبارہ قبضہ کرے گا ۔ بائبل ہزار سالوں کے دوران حالات کو ایک کامل ظاہری اور روحانی ماحول کے بارے بات کر تی ہے ۔ یہ امن ( میکاہ 4 : 2-4، یسعیاہ 32 : 17-18 ) ، خوشی ( یسعیاہ 61 : 7 ) ، اطمینان ( یسعیاہ 40 : 1-2 ) اور غربت اور بیماری کے بغیر دور ہو گا ( عاموس 9 : 13-15 ، یو ایل 2 : 28-29 ) بائبل یہ بھی بتاتی ہے کہ صرف ایماندار ہرزار سالہ بادشاہی میں داخل ہو نگے ۔ ا٘س وجہ سے کیونکہ یہ مکمل راستبازی ( متی 25 : 37 ، زبور 24 : 3-4 ) تابعداری ( یرمیاہ 31 : 33 ) پاک دامنی ( یسعیاہ 35 : 8 ) سچائی ( یسعیاہ 65 : 16 ) اور روح القدس سے بھرے جانے کا دور ہو گا ( یو ایل 2 : 28-29 ) مسیح ایک بادشاہ کے طور پر ( یسعیاہ 11 : 1-10 ، 9 : 3-7 ) داود ایک نائب کے طور پر ساتھ حکومت کرے گا ( یرمیاہ 33 : 15-21 ، عاموس 9 : 11 ) مقدس اور گورنر بھی حکومت کریں گے ( یسعیاہ 32 : 1 متی 19 : 28 ) اور یروشلم دُنیا کا سیاسی مرکز ہو گا ( زکریاہ 8 : 3 ) ۔

مکاشفہ 20 : 2-7 ہزار سالہ بادشاہت کا ٹھیک ٹھیک وقت بتاتا ہے ۔ حتی کہ کلام کے اِن بیانات کے علاوہ یہاں پر بے شمار دوسرے حوالے ہیں جو کہ زمین پر مسیح کی ہو بہو حکمرانی کی طرف اشارہ کر تے ہیں ۔ خدا کے بہت سارے عہد اور وعدوں کے پورے ہونے کا انحصار ایک ہو بہو ، جسمانی اور آنے والی بادشاہت میں ہے ۔ یہاں پر ہزار سال حکومت اور اِس کے ہزار سالہ دورانیے کی ہو بہو وضاحت کے انکار کے کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے ۔



واپس اردو زبان کے پہلے صفحے پر



کیا ہزار سالہ بادشاہت لغوی معنوں میں یا اعداد و شمار کے حساب سے ہے ؟