کیا یسوع خداہے؟ کیا یسوع نے کبھی خدا ہونےکا دعوی کیا؟



سوال: کیا یسوع خداہے؟ کیا یسوع نے کبھی خدا ہونےکا دعوی کیا؟

جواب:
بائیبل میں کہیں پر بھی یسوع مسیح کو یہ الفاظ کہتے ہوئے نہیں لکھا گیا ہے کہ "میں خداہوں"۔ کسی طرح اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یسوع مسیح نے دعوی نہیں کیا کہ وہ خدا ہے۔ مثال کے طور پر یسوع مسیح کے ان الفاظ کو لیجئے جو یوحنا 10:30 میں پایا جاتاہے۔ "میں اور باپ ایک ہیں"۔ جب وہ خود کو خدا کے برابر ہونے یا خدا ہونے کا دعوی کر رہا تھاتو ہم کو صرف یہودیوں کے جوابی عملکو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کاجوابی عمل یہتھا کہ اس دعوے کے سبب سے یہودیوں نے اسے سنگسار کرنے کی کوشش کی یہ کہہ کرکہ "تم انسان ہو کر خدا ہونے کا دعوی کرتے ہو"؟ (یوحنا 10:33)۔ بعد میں یہودیوں نے یہ بھی سمجھ لیا تھاکہ یسوع الہی ہونے کا دعوی پیش کر رہا تھا۔اس بات پر غور کریں کہ یسوع خدا ہونےکےدعوے کا انکار نہیں کر تاہے۔ جب اس نے اعلان کیا کہ "میں اور باپ ایک ہیں (یوحنا 10:30) تو اس کےکہنے کا مطلب تھاکہ وہ اور خداباپ فطرتاور ذات مطلق یا ماہیت میں ایک ہیں۔ یوحنا 8:58 ایک دوسری مثال ہے۔ یسوع نے اعلان کیا کہ "اس سے پہلے کہ ابراہیمپیدا ہوا میں ہوں"۔ یہاں پر بھی یہودی لوگ جنہوں نے اس کی بات کو سنا تھا ان کی نظر میں کفر بکنا ثابت ہوااور وہ اسے مارنے کے لئے پتھر اٹھائے کیونکہ موسی کی شریعت میں ایسا کرنے کے لئے لکھا ہوا ہے۔ (احبار 24:15)۔

یوحنا یسوع کے الہی ہونے کے موضوع کو دھراتا ہے کہ کلام خدا تھا" اور کلام مجسم ہوا (یوحنا 14، 1:1)۔ یہ آیتیں صاف اشارہ کرتی ہیں کہ یسوع مجسم خدا ہے۔ رسولوں کے اعمال 20:28 ہم سے کہتی ہے کہ "خدا کی کلیسیا کی گلہ بانی کرو جسے اس نے خاص اپنے خون سے مول لے لیا"۔ کس نے کلیسیا کو۔ یعنی خدا کی کلیسیا کو خاص اپنے خون سے خرید لیا؟ یسوع مسیح نے۔ اعمال 20:28 اعلان کرتی ہے خدا نے اپنی کلیسیا کواپنے خاص خون سے خرید لیا۔ اس لے یسوع خدا ہے!

توما جو شاگرد تھا اس نے یسوع سے مخاطب ہو کر اعلان کیا "اے میرے خداوند! اے میرے خدا"!! (یوحنا 20:28) اس باپ پر غور کریں کہ یسوع مسیح نے توما کو نہ تو ٹوکا اور نہ سدھارا۔ مطلب یہ کہ وہ جو کہہ رہا تھا صحیح کہہ رہا تھا۔ ططس 2:13 ہماری حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ "اس مبارک امید یعنی اپنے بزرگ خدا اور منجی یسوع مسیح کے جلال کے ظاہر ہونے کے منتظر رہیں"۔ 2 پطرس 1:1 بھی دیکھیں عبرانیوں 1:8 میں خدا باپ یسوع کے حق میں اعلان کرتا ہے کہ "اے خدا تیرا تخت ابد الآباد رہے گا اور تیری بادشاہت کا عصا راستی کا عصا ہے"۔ خداباپ یسوع سے "اے خدا" کہہ کر مخاطب ہوتاہے جو اس باپ کی اشارہ کرتا ہے کہ یسوع حقیقت میں خدا ہے۔

مکاشفہ کی کتاب میں ایک فرشتہ نے یوحنا رسول کو ہدایت دی کہ صرف خداکو سجدہ کرے (مکاشفہ 19:10) کئی ایک دفعہ پاک کلام میں ہم پڑھتے ہیں کہ یسوع مسیح نے اپنی عبادت منظور کی یعنی کہ اس کو سجدہ کرنے پر نہیں روکا۔ (متی 2:11؛ 14:33، 17، 9 :28 لوقا 24:52؛ یوحنا 9:38)۔ اس نے کبھی بھی لوگوں کو اس کے آگے سجدہ کرنے پر نہ ہی ڈانٹا اور نہ ملامت کیا۔ اگر یسوع خدا نہ ہوتا تو یسوع لوگوں سے صاف کہہ دیتا کہ تم مجھے سجدہ مت کرو جس طرح فرشتہ نے مکاشفہ میں یوحنا رسول سے کہا تھا۔ ایسی کئی ایک آیتیں اور عبارتیں کلام پاک میں پائی جاتی ہیں جو یسوع کے الہی ہونے پر بحث کیاجا سکتا ہے۔

یسوع کے خداہونے کا جو سب سے زیادہ ضروری سبب یہ ہے کہ اگر وہ خدا نہیں ہے تو دنیا کے گناہوں کے لئے اس کی موت کا کفارہ دیاجانا کافی نہ ہوتا (1 یوحنا 2:2) اگر خدا نہ ہوتا تو وہ خدا باپ کی بنائی ہوئی صرف ایک مخلوق ثابت ہوتااور ایک ابدی خداکے خلاف دنیاکے گناہوں کے لئے جو ابدی کفارہ کی ضرورت تھی اسے وہ ادا نہیں کر سکتا تھا۔ صرف خدا ہی اس طرح کے ابدی کفارہ کو اداکر سکتا تھا۔ صرف خدا ہی دنیا کے گناہوں کو اکیلا اپنے او پر لے سکتا تھا (2 کرنتھیوں 5:21)، گناہ اور موت پر فتحمند ثابت کرنے کے لئے مر کر زندہ بھی ہو سکتا تھا۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



کیا یسوع خداہے؟ کیا یسوع نے کبھی خدا ہونےکا دعوی کیا؟