ایک جنس کے شخص کی بابت شہوانی ہونے کے بارے میں پاک کلام کیا کہتا ہے؟



سوال: ایک جنس کے شخص کی بابت شہوانی ہونے کے بارے میں پاک کلام کیا کہتا ہے؟ کیا ایک جنس کے شخص کی بابت شہوانی ہونا گناہ ہے؟

جواب:
پاک کلام بااصول طور سے ہم کہتا ہے کہ ایک جنس کے شخص کی بابت شہوانی ہونے کا عمل گناہ ہے (پیدایش 19:1-13؛ احبار 18:22؛ رومیوں 1:26-27؛ 1 کرنتھیوں 6:9)۔ رومیوں 1:26-27 خاص طور سے تعلیم دیتی ہے کہ ایک جنس کے شخص کی بابت شہوانی ہونا یہ خدا کو انکار کرنے اور نافرمانی کا نتیجہ ہے۔ جب لوگ لگاتار گناہ کرتے جاتے اور بے اعتقاد ہوتے جاتے ہیں تب خدا ان کو اُن کی اپنی حالت میں چھوڑ دیتا ہے۔ رومیوں 1:28 میں پولس کہتا ہے کہہ ’’اور جس طرح انہوں نے خدا کو پہچاننا ناپسند کیا اُسی طرح خدا نے بھی ان کو ناپسندیدہ عقل کے حوالہ کر دیا تاکہ نالایق حرکتیں کریں۔‘‘ اس سے خدا ان کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ خدا سے جدا ہونے کے بعد ان کی زندگی بے نتیجہ ہونے اور ناامیدی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ 1 کرنتھیوں 6:9 اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ لونڈے باز مجرم کبھی خدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہوں گے۔ پولس رسول وہاں پر مجرموں کی ایک فہرست پیش کرتا ہے وہ کہتا ہے کہ کیا تم نہیں جانتے کہ بدکار خدا کی بادشاہی کے وارث نہ ہوں گے؟فریب نہ کھائو، نہ حرامکار خدا کی بادشاہی کے وارث ہوں گے، نہ بُت پرست، نہ زناکار، نہ عیاش، نہ لونڈے باز۔

خدا کسی کو حرامکاری یا لونڈے بازی کی خواہش کے ساتھ پیدا نہیں کرتا۔ کلامِ پاک کہتا ہے کہ گناہ کے سبب سے لوگ ایک جنسی شخص کے ساتھ شہوانی ہو جاتے ہیں (رومیوں 1:24-27)۔ اور آخرکار یہ گناہ ان کی آخری خواہش بن جاتی ہے۔ ایک شخص حرامکاری کی خواہش کے ساتھ پیدا ہو سکتا ہے جس طرح کچھ لوگ شرارت پسند اور دیگر گناہ کی فطرت کو لے کر پیدا ہوتے ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انہیں اس طرح سے گناہ کی خواہشات کے سبب سے گناہ کرنے کی چھوٹ مل جاتی ہے۔ نہیں ایسا نہیں ہے۔ اگر ایک شخص طیش و غصّہ کی بدتر احساسات سے پیدا ہوتا ہے تو کیا وہ شخص اُن ہی خواہشات کے ماتحت چھوڑ دیا جاتا ہے۔ نہیں! اِسی طرح حرامکاری کے گناہ کے ساتھ بھی ایسا ہی برتائو کیا جاتا ہے۔

کسی طرح کلام پاک اس بات کا ذکر نہیں کرتا کہ ایک جنس کے شخص کے ساتھ صحبت کرنے کا گناہ دیگر گناہوں سے زیادہ بڑا ہے بلکہ کلام یہ ظاہر کرتا ہے تمام گناہ خدا کی نظر میں اس کے حکم کے خلاف ہے۔ اور اس کا کرنے والا سزا یافتہ ہے۔ ایک جنس کے شخص کے ساتھ صحبت کرنا اُن گناہوں میں سے ایک ہے جس کی فہرست 1 کرنتھیوں 6:9-10 میں پیش کی گئی ہے اور جس کی سزا ہے ان گناہوں کو انجام دینے والا خدا کی بادشاہی کے وارث نہیں ہوگا۔ کلامِ پاک کے موافق خدا کی بخشش یا اس کی معافی جس طرح ایک جنس کے شخص کے ساتھ صحبت کرنے والے کے لئے دستیاب ہے اُسی طرح ایک زناکار، بت پرست خونی، چور وغیرہ کے لئے بھی دستیاب ہے بشرطیکہ وہ اپنے گناہ قبول کرلے اور اس کو چھوڑ دے۔ خدا یہ بھی وعدہ کرتا ہے کہ وہ ہر ایک گنہگار کو اس کے گناہ پر فتح پانے یا اس پر غالب آنے کی قوت کرے گا۔ یہاں تک کہ اس شخص کو بھی جو ایک جنس کے شخص کے ساتھ صحبت کرتا ہے۔ یہ تبھی ممکن ہو سکتا ہے جب ایک شخص اپنی نجات کے لئے یسوع مسیح پر ایمان لائے اور اپنے گناہوں کا اقرار کرے (1 کرنتھیوں 6:11؛ 2 کرنتھیوں 5:17؛ فلپیوں 4:13)۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



ایک جنس کے شخص کی بابت شہوانی ہونے کے بارے میں پاک کلام کیا کہتا ہے؟ کیا ایک جنس کے شخص کی بابت شہوانی ہونا گناہ ہے؟