کیا خدا وجود رکھتا ہے؟ خدا کے وجود کے لئے کیا کوئی ثبوت ہے؟



سوال: کیا خدا وجود رکھتا ہے؟ خدا کے وجود کے لئے کیا کوئی ثبوت ہے؟

جواب:
خداکے وجود کے لئے نہ کوئي ثبوت دیا جا سکتاہے نہ ہی اس کو باطل کیا جاس کایا غلط ثابت کیا جا سکتاہے۔ پاک کلام کہتاہے کہ ایمان سے ہمیں اس کی سچائی کو قبول کرناہوگا کہ خدا وجود رکھتا ہے۔ "اور بغیر ایمان کے اس کو پسند آنا نا ممکن ہے اس لئے کہ خدا کے پاس آنے والے کو ایمان لاناچاہئے کہ وہ موجود ہے اور اپنے طالبوں کو بدلہ دیتا ہے" (عبرانیوں 11:6)۔ اگر خدا اتناکچھ چاہتا تو وہ یونہی ظاہرہوتا اور ساری دنیا کو ثابت کرتا کہ وہ موجود ہے۔ پر اگر وہ ایسا کرتاتو ایمان لانے یا ایمان رکھنے کی کوئی ضرورت بھی نہ ہوتی۔ یسوع مسیح نے توما سے کہا تھا کہ "تو تو مجھے دیکھ کر ایمان لایا ہے۔ مبارک وہ ہیں جو بغیر دیکھےایمان لائے" (یوحنا 20:29)۔

اس کے یہ معنی نہیں کہ کسی طرح خداکے وجود کا کوئي ثبوت نہیں ہے۔ کلام پاک بیان کرتاہے "کہ "آسمان خداکا جلال ظاہر کرتاہے اور فضا اس کی دستکاری دکھاتی ہے۔ دن سے دن بات کرتاہے اور رات کو رات حکمت سکھاتی ہے۔ نہ بولنا ہے نہ کلام۔ نہ ان کی آواز سنائی دیتی ہے۔ انکا سُر ساری زمین پر اور ان کاکلام دنیا کی انتہا تک پہنچا ہے"۔ (زبور شریف 4 – 1 :19)۔

تاروں کو دیکھ کر کائنات کی وسعت سمجھ میں آتی ہے، قدرت کے عجائب پر غور کرنے سے، غروب آفتاب کی خوبصورتی کو دیکھنے سے اس بات کا اشارہ ہوتاہےکہ ایک خالق خدا ہے جس نے انہیں بنایا۔ اگر یہ سب چیزیں کافی نہیں ہیں تو ہمارے اپنے دلوں میں خدا کے لئے ثبوت پایا جاتاہے۔ واعظ کی کتاب 3:11 ہم سے کہتا ہے "۔۔۔۔۔ خدا نے ہر ایک چیز کو اس کے وقت میں خوب بنایااور اس نے ابدیت کو بھی بنی آدم کے دل میں جاگزین کیا ہے" ہمارے باطن کی گہرائی میں ایک ایسی پہچان ہے کہ اس زندگی کے بعد بھی کچھ ہے اور اس دنیاکے پرے کوئی موجود ہے۔ ہو سکتاہے کہ ہم چالاکی سے اس علم کاانکار کریں مگر خدا کا وجود ہمارے اندر اور ہمارے آس پاس ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ کلام پاک خبردارکرتاہے کہ کچھ لوگ ابھی بھی خداکے وجود کا انکارکریں گے" احمق نے اپنے دل میں کہا "کوئی خدا نہیں" (زبور شریف 14:1)۔ پھر بھی تمام اقوام کے تمام تہذیبوں میں دنیا کی ساری تاریخ کے لوگوں کی اکثریت کسی نہ کسی طور بطور خداکے وجود کا یقین رکھتی ہے، یاپھر اس اعتقاد کا سبب بنتے ہے کہ اس کائنات کے پیچھے کسی کا ہاتھ ضرور ہونا چاہئے۔

خداکے وجود کے لئے بائبل کے بحث کے علاوہ اصول استدلال کے بحث بھی ہیں۔پہلا ہے۔ علم الوجود کا بحث۔ علم الوجود کے بحث میں سے سب سے مشہور بحث خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لئے خدا کے تصور کا استعمال کرتا ہے۔ یہ خدا کے اجاگر ہونے سے شروع ہوتا ہے۔ "ایک ایسی ہستی بطور جس سے بڑااور کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ تب یہ بحث کیا جاتاہے کہ جس کا وجود ہے وہ اس سے بڑا ہے جس کا وجود نہیں ہے چنانچہ سب سے بڑی جو تصور کی جانے والی ہستی ہے اس کا وجود ہونا چاہئے۔ اگر خدا وجود نہ رکھتا ہوتا تو خدا سب سے بڑی تصوری کی جانے والی ہستی نہ ہوتا اور یہ خدا کی تعریف کی انکار کرنا ثابت ہوگا۔

اس کا دوسرا بحث ہے علم الہی کا بحث:علم الہی کابحث بیان کرتا ہے کہ جب کہ کائنات ایک ایسے تعجب خیز تدبیر و تجویز کی اداکاری نبھاتی ہے تو اس کا تدبیر و تجویزکرنے والا بھی ہونا چاہئے۔ مثال کے طور پر اگر زمین معنی خیز طور سے سورج سے بہت قریب یا بہت دورہے تو جس طرح موجودہ حالت میں ہمیں زندگی دیتا ہے ویسی زندگی نہیں دے پائے گا۔ اگر ہمارے فضا یا ماحول کے عناصر میں کچھ فیصدی پتش کے درجہ کا فرق ہو جائے تو قریب قریب زمین کے تمام جاندار مر جائیں گے۔ ایک واحد پروٹین کے ریزہ کی عدم مساوات انفاقا جو صورت اختیار کرتاہے اس کی تعداد دس میں سے ایک ہے یعنی کہ دس کے آ کے 243 صفر لگانے سے جو عدد بنتا ہے اتنا ہے (یہ ہمارے جسم میں رونما ہوتے ہیں) ایک واحد خلیہ (حیاتیات) عربوں پروٹین کے ریزوں پر مشتمل ہے۔

خدا کے وجود کے لئے تیسراجو اصول استدلال کا بحث ہے وہ علم کائنات سے متعلق بحث کہلاتا ہے۔ ہر ایک اثرکا کوئی نہ کوئی سبب ضرور ہے۔ یہ پوری کائنات اور اس میں جو بھی کچھ موجود ہے اس کا ایک اثر ہے۔ کائنات کی ہر ایک چیز کے وجود میں آنے کا کوئی نہ کوئی سبب ہونا ضروری ہے۔ آخر کار ہر ایک چیز کا وجود میں آکر سبب بننے کے لئے کچھ کا بے سبب بننا بھی ضروری ہے۔ اس بے سبب کا سبب خدا ہے۔

ایک چوتھا بحث ہے جو اخلاقی اصول کا بحث جانا جاتا ہے۔ تاریخ کی جتنی بھی تہذیبیں پائی جاتی ہیں ان میں سے ہر ایک تہذیب کا ایک قانون پایا جاتاہے۔ ان میں سے ہر کسی کو صحیح اور غلط کی پہچان کااحساس ہے۔ خون کرنا، جھوٹ بولنا، چوری کرنااورحرام کاری ان سب کوتمام تہذیبووں میں منع کیا گیا ہے۔ اگر خداپاک نہ ہوتا تو یہ صحیح اور غلط کی پہچان کاحساس کہاں سے آتا؟ آخر کاراحکام بھی توخدا نے ہی عائد کئےہیں۔

ان سب کے باوجود کلام پاک ہم سےکہتا ہے کہ لوگ صاف گوئی اور سچائی کےعلم کاانکارکریں گے اوراسکے بدلے جھوٹ کو بڑھاوا دیں گے۔ رومیوں 1:25 بیان کرتاہے کہ "انہوں نے خدا کی سچائی کوبدل کر جھوٹ بنا ڈالا اور مخلوقات کی زیادہ پرستش اورعبادت کی بہ نسبت اس خالق کے جو ابد تک محمود ہے آمین"۔ کلام پاک اس بات کی بھی منادی کرتاہے کہ لوگوں کو خدا پر اعتقاد نہ کرنے کے لئے کوئی بہانہ نہیں ہے۔ "کیونکہ خدا کی ان دیکھی صفتیں یعنی اس کی ازلی قدرت اور الوہیت دنیا کی پیدائش کے وقت سےبنائی ہوئی چیزوں کے ذریعہ سے معلوم ہو کر صاف نظر آتی ہیں، یہاں تک کہ ان کو کچھ عذر باقی نہیں" (رومیوں 1:؛20)۔

لوگ خداکے وجود کا اس لئے انکار کرتے ہیں کیونکہ یہ سائنس کے مطابق نہیں ہے یا پھر کوئی ثبوت نہیں ہے۔ حقیقی سبب یہ ہے کہ ایک بارجب وہ مان لیتے ہیں کہ خدا کا وجود ہے تو انہیں اس بات کو پہچاننا ہوگاکہ وہ خدا کی بابت ذمہ دار ہیں اور انہیں خدا کی معافی کی ضرورت ہے۔ رومیوں 3:23؛ رومیوں 6:23)۔ اگر خدا کا وجود ہے توہم اپنے اعمال کے بھلے اور برے کاموں کے ذمہ دار ہیں۔ اگر خدا کا وجود نہیں ہے تو جو چاہے وہ آزادی سے کر سکتے ہیں خدا کی بابت فکر نہ کرتےہوئے کہ وہ ہمارا انصاف کرے گا۔ اسی لئے بہت سے لوگ جو خدا کے وجود کاانکار کرتے ہیں وہ قدرتی ارتقائی کے اصول پر مضبوطی سے ٹکے رہتے ہیں یا اس پر ثابت قدم رہتےہیں۔ یہ انہیں خالق خدا کی بابت اعتقاد میں ایک دوسری صورت اختیار کرنے کے چناؤ کا موقع عنایت کرتاہے۔ سو خدا موجود ہے اور آخر کار ہر کوئی جانتاہے کہ وہ ضرور موجود ہے۔ ایک سنجیدہ حقیقت یہ ہے کہ کچھ لوگ بہت ہی حملہ آورانہ انداز سے خدا کے وجود کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتےہیں جوکہ حقیقت میں خدا کے وجود کی بات ایک بحث و تکرار کا سبب ہے۔

ہم کیسے خداکے وجود کو جانتے ہیں؟ مسیحی ہونےکے ناتے ہم جانتے ہیں کہ خدا موجود ہے کیونکہ ہم روزانہ اس سے بات کرتےہین۔ حالانکہ ہم ہو بہو نہیں سنتے کہ وہ ہم سےبات کر رہا ہے مگر ہم کو اس کی حضوری کااحساس ہے، ہم کو اس کی رہنمائی کا احساس ہے۔ ہم اس کی محبت کو جانتے ہیں۔ اور ہم اس کے فضل کی خواہش رکھتے ہیں۔ جو کچھ ہماری زندگیوں میں واقع ہوا اس کو خدا کے علاوہ اور کوئی ممکن وضاحت ہمارے پاس موجود نہیں ہے۔ خدا نےاز حد معجزانہ طریقے سے ہم کوبچایاہے اور ہماری زندگیوں کوبدلا ہے۔ یہی خدا کی موجودگی کا ثبوت ہے سے معلوم کرکے ہم اس کی تعریف اور حمد کرتےہیں۔ ان تمام بحث میں سے کوئی بھی بحث کسی کو قائل نہیں کر سکتی جو اس بات کوجانتا ہے کہ پہلے کونسی بات ضروری ہے۔ آخر میں یہ بات جاننا ضروری ہے کہ ایمان کے وسیلہ سے خدا کے وجود کو قبول کیا جاناچاہئے۔ (عبرانیوں 11:6)۔ خداپر ایمان رکھنااندھیرے میں تیر چلانے جیسا نہیں بلکہ ایک روشن کمرے میں قدم رکھنے بطور ہے جہاں لوگوں کی اکثریت پہلے سے ہی کھڑی ہوئی ہے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



کیا خدا وجود رکھتا ہے؟ خدا کے وجود کے لئے کیا کوئی ثبوت ہے؟