خدا کی طرف سے نازل شُدہ شرعی نظام کیا ہے ؟ اور کیا یہ بائبل ہے ؟




سوال: خدا کی طرف سے نازل شُدہ شرعی نظام کیا ہے ؟ اور کیا یہ بائبل ہے ؟

جواب:
خدا کی طرف سے نازل شُدہ شریعت الہیات کا ایک نظام ہے جس کے بنیادی فرق ہیں 1) کلام کی ایک مسلسل لفظ بلفظ تشریح ، خاص طور پر بائبل کی پیشن گوئی کی ۔ 2 ) خدا کے پروگرام میں اسرائیل اور کلیسیا کے درمیان ایک تفریق )

خدا کی طرف سے نازل شُدہ شرعی نظام کے حامل دعویٰ کر تے ہیں کہ اُن کی تفاسیر کا اصول یہ ہے کہ تشریح ہو بہو ہو ، جس کا مطلب ہے کہ ہر لفظ کا معنی دیتے ہوئے کہ روز مرہ کے استعمال میں عام ہونا چاہیے ۔ اِس طریقے میں علامات ، اندازِ بیان کے اعداد و شمار اور اقسام سب صاف صاف تشریحا بیان ہوتا ہے اور یہ کسی بھی طرح سے لفظ بلفظ تشریح سے اختلاف نہیں رکھتا ۔ حتی کہ علامات اور اعدادو شمار کے بیانات اپنے اندر لفظ بلفظ معنی رکھتے ہیں ۔

یہ یہاں پر کم از کم تین وجوہات بیان کی گئی ہیں کہ کیوں یہ کلام کو دیکھنے کا سب سے بہترین طریقہ ہے ۔ پہلا فلسفیانہ طور پر زبان کا مقصد اپنے آپ تقاضا کرتا ہے کہ ہم اِسے ہو بہو بیان کریں ۔ انسان کے ساتھ رابطے کرنے کے قابل بنانے کے مقصد کے لیے زبان خدا کی طرف سے عنایت کی گئی تھی ۔ دوسری وجہ بائبل کے مطابق ہے ۔ پُرانے عہد نامے میں یسوع کے بارے میں ہر نبوت ہو بہو پوری ہوئی ۔ یسوع کی پیدائش ، یسور کی منادی ، یسوع کی موت اور یسوع کا مُردوں میں سے دوبارہ جی اُٹھنا سب کچھ اِسی طرح وقوع پذیر ہوا جس طرح پُرانے عہد نامہ میں پیشن گوئی کی گئی تھی ۔ نئے عہد نامے میں اِن نبوتوں کی کوئی بھی ہو بہو نامکمل تکمیل موجود نہیں ہے ۔ یہ لفظ بلفظ بیان کرنے کے طریقہ کی ایک مضبوط دلیل ہے ۔ اگر بائبل کے مطالعے میں لفظ بلفظ تشریح کا استعمال نہیں ہوتا ہے تو یہاں ہر کوئی بھی فکری معیار نہیں ہو گا جس سے بائبل کو سمجا جا سکے ۔ ہر ایک شخص جیسے وہ مناسب دیکھے گا بائبل کی تشریح کرنے کے قابل ہو جائے گا ۔ بائبل کی تشریح " بائبل کہتی ہے " کی بجائے " یہ پیرا گراف مُجھ سے کیا کہتا " میں تبدیل ہو جائے گی ۔ افسوس کے ساتھ کہ یہ معاملہ پہلے ہی موجود ہے جو کہ آج کل بائبل کی تفسیر کہلاتی ہے ۔

شرعی نظام کا الہامی علم سکھاتا ہے کہ خدا کے دو مختلف قسم کے لوگ ہیں : اسرئیل اور کلیسیا ۔ شرعی نظام عقیدہ کے حامل ایمان رکھتے ہیں ۔ پُرانے عہد نامے میں نجات ہمیشہ خدا میں رکھنے سے اور نئے عہد نامے میں خاص طور پر خدا بیٹے میں ایمان رکھنے سے ملتی رہی ہے ۔ شرعی نظام عقیدہ کے حامل یقین رکھتے ہیں کہ خدا کے پروگرام میں کلیسیا نے اسرائیل کی جگہ نہیں لی تھی اور پُرانے عہد نے اسرائیل کو کلیسیا میں تبدیل کرنے کا وعدہ نہیں کیا ۔ وہ ایمان رکھتے ہیں کہ پُرانے عہد نامہ میں خدا نے اسرائیل سے ( وطن کے لیے ، بے شمار نسل کے لیے ، اور برکات کے لیے ) کیے گئے وعدے آخر کار مکاشفہ 20 باب میں بیان کیے گئے 1000 سالہ دور میں پورے ہوں گے ۔ شرعی نظام کے عقیدہ کے حامل یقین رکھتے ہیں جس طرح خدا اِس دور میں اپنی توجہ کلیسیا پر مرکوز کرتا ہے ، وہ مستقبل میں اپنی توجہ اسرائیل پر مرکوز کرے گا ۔ ( رومیوں 9 : 11 )

اِس نظام کو ایک بنیاد کے طور پر استعمال کرتے ہوئے شرعی نظام کے عقیدہ کے حامل بائبل کو سات بانٹی جانے والی اشیاء میں منظم سمجھتے ہیں ۔ معصومیت ( پیدائش 1 : 1 ۔3 : 7 ) ، ضمیر ( پیدائش 3 : 8 ، 8 : 22 ) انسانی حاکمیت ( پیدائش 9 : 1 ، 11 : 32 ) وعدہ ( پیدائش 12 : 1 ، خروج 19 : 25 ) شریعت ( خروج 20 : 1 ، اعمال 2 : 4 ) ، فضل ( اعمال 2 : 4 ، مکاشفہ 20 : 3 ) اور ہزار سالہ بادشاہت ( ماشفہ 20 : 4 ۔ 6 ) پھر سے بیان کیا جاتا ہے کہ یہ تقسیم کی جانے والی اشیاء نجات کے راستے نہیں ہیں لیکن اُن اسلوب میں جو کہ خدا انسان سے منسوب کرتا ہے ۔ شرعی نظام ایک نظام کے طور پر مسیح کی آمدِ ثانی کی ہزار سالہ بادشاہت کی تشریح اور عام طور پر دوبارہ جی اُٹھنے کی مصیبت سے پیلے کی تشریح کے لیے نتائج فراہم کرتا ہے ۔ مختصراً شرعی نظام ایک الہی نظام ہے جو کہ اسرائیل اور کلیسیا کے درمیان ایک واضھ نشاندہی کرتے ہوئے بائبل کی نبوت کی لفظ بلفظ تشریح پر زور دیتا ہے اور بائبل کو مختلف نظامات میں منظم کرتا ہے جو یہ پیش کر تی ہے ۔



واپس اردو زبان کے پہلے صفحے پر



خدا کی طرف سے نازل شُدہ شرعی نظام کیا ہے ؟ اور کیا یہ بائبل ہے ؟