اگر ميں مسيحيت كو قبول كرتا هوں، ميرا خاندان مجھے قبول نه كريگا اور ميرے معاشرے كے لوگ مجھے بري طرح تكاليف ديں گے۔ تو پھر ميں كيا كروں؟




سوال: اگر ميں مسيحيت كو قبول كرتا هوں، ميرا خاندان مجھے قبول نه كريگا اور ميرے معاشرے كے لوگ مجھے بري طرح تكاليف ديں گے۔ تو پھر ميں كيا كروں؟

جواب:
یه ایمانداروں کے لئے بهت مشکل هے جو ایسی قوموں میں رهتے هیں جهاں معاشرے میں مذهبی بنیاد پرستی کی آزادی هے، مسیح کی پیروی کی قیمت کو مکمل طور پر سمجھنا دنیا کی دوسرے حصوں کی طرح۔ کلامِ مقدس ، اس کے باوجود، خدا کا کلام هے اور ایسے هی ، یه مفصل هے اور زندگی کی تمام آزمائشوں اور مصیبتوں کو سمجھنے میں، وقت اور جگه سے قطع نظرهے۔ یسوع نے واضع طور پر کها هے که اس کے پیروی کرنا نهایت خطرناک هے۔ درحقیقت یه همارے لئے هر چیز کی قیمت هے۔ پهلے، یه همارے لئے هماری قیمت هے۔ یسوع نے بھیڑ کو بتایا کے کون میرے پیچھے آتا هے "اگر کوئی میرے پیچھے آنا چاهے تو اپنی خودی سے انکار کرے اور صلیب اُٹھائے اور میرے پیچھے هو لے"﴿مرقس8باب34آیت﴾۔ صلیب موت کا هتھیار تھی اور یسوع نے واضع طور پر بتایا که اسکی پیروی کرنے کا مطلب هے اپنے آپ کو مارنا۔ هماری تمام دنیاوی خواهشات اور حوس کو مصلوب کیا جائے پس اسطرح هم اس میں نئی زندگی حاصل کرتے هیں، کوئی بھی دو مالکوں کی خدمت نهیں کرسکتا ﴿لوقا16باب13آیت﴾۔ لیکن نئی زندگی بهت مختلف اور بیش بها هے کسی بھی شے سے جو هم دنیا میں حاصل کرسکتے هیں۔

دوسرا، یه همارے خاندان اور دوستوں کی بھی قربانی مانگ سکتا ہے۔ یسوع نے متی 10باب32تا39آیت میں واضع کها که اسکی آمد اسکے پیروکاروں کو انکے خاندانوں سے جدا کرتی هے، لیکن هر کوئی جو نفرت نه کرے، ﴿کم پیار کرنے والا﴾ اسکا خاندان اسکے پیروکار کے لئے اهم نهیں هونا چاهیے۔ اگر هم مسیح کو رد کرتے هیں اور دنیاوی خاندان میں امن برقرار رکھتے هیں، تو وه همیں آسمان میں رد کریگااور اگر یسوع همیں رد کرتا هے ،تو همیں فردوس میں جانے سے رد کردیا جاتا هے۔ اگر هم اسکا اقرار آدمیوں کے سامنے کرتے هیں، اس سے قطع نظر کے همیں اسکی کیا قیمت ادا کرنا هوگی، وه اپنے باپ سے کهے گا، "یه میرا هے اسکو اپنی بادشاهی میں قبول کریں"۔ ابدی زندگی "بیش قیمت موتی "هے متی13باب44تا45آیت جو هر اس قیمتی شے سے بڑھ کرهے جو همارے پاس هے۔ یه بهتر نهیں که اپنی مختصر اور ناپائیدار زندگی کو رکھا جائے اور ابدیت کو کھو دیا جائے۔ "اور آدمی اگر ساری دنیا کو حاصل کرے اور اپنی جان کا نقصان اُٹھائے تو اسے کیا فائده هوگا؟"﴿مرقس8باب36آیت﴾۔ جیسے جم ایلیٹ، ایک مشنری هورانیی انڈیانا ایکواڈور میں مسیح کی تبلغ کرتے هوئے قتل هوا کهتا هے، "کوئی ایسا بیوقوف نهیں جو وه دیتا هے جس سے وه کچھ پانهیں سکتا اسلئے که وه کچھ کھو نهیں سکتا"۔

یسوع نے خود ایذار سانی کو واضع کیا جو اس لے لحاظ سے اٹل تھی۔ وه همیں قبول کرنے کے لئے حوصله دیتا هے یه اسکے شاگردوں کے لئے عام سی بات تھی، اور وه تکالیف میں پُرامید اور خوش رهتے۔ وه ستائے جانے والوں کو "مبارک"کهتا اور همیں بتاتا هے "خوشی کرنا اور نهایت شادمان هونا کیونکه آسمان پر تمهار ا اجر بڑا هے"﴿متی5باب10تا12آیت﴾۔ خداوند کا کلام ہمیں بتاتا ہے کہ جب میرے سبب سے لوگ تم پر لعن طعن کریں تو نہایت شادمان ہونا کیونکہ آسمان پر تمارا اجر بڑا ہے۔ وه همیں یاد دلاتا هے که اسکے لوگ همیشه سے ستائے جاتے رهے هیں۔ پرانے عهدنامے کے نبیوں کو ستایا گیا، برا بھلا کها گیا، مار پیٹا گیا، قتل کیا گیااور ایک دفعه تو درمیان سے چیر دیا گیا ﴿عبرانیوں11باب37آیت﴾۔ تمام رسولوں ﴿ماسوائے یوحنا کے جو پتمس کے جزیره میں جلاوطن کیا گیا تھا﴾پر مسیح کی تبلغ کرنے کی وجه سے ایذارسانی کی گئی۔ روایت بیان کرتی هے که پطرس کو الٹامصلوب کیا گیا تھا کیونکه وه اپنے آپ کو اس لائق نهیں سمجھتا تھا که وه خدا وند کی طرح مصلوب کیا جائے۔ اب وه اپنے پهلے خط میں لکھتا هے "اگر مسیح کے نام کے سبب سے تمهیں ملامت کی جاتی هے توتم مبارک هوکیونکه جلال کا روح یعنی خدا کا روح تم پر سایه کرتا هے "﴿1۔پطرس4باب14آیت﴾۔ پولوس رسول قیدخانه میں بند تھے، انکو بهت دفعه مسیح کی تبلغ کرنے کی وجه سے مارپیٹا اور پتھر مارے گئے، لیکن اس نے اپنے دکھوں کو اس لائق نهیں جانا که جو جلال وه حاصل کرنے کو هے اس سے اس کا موازنه بھی کیا جائے ﴿رومیوں8باب18آیت﴾۔

جبکه شاگرد بننے کی قیمت زیاده دکھائی دیتی هے، یهاں زمینی اجر بھی هیں اور آسمانی بھی۔ یسوع نے وعده کیا هے که وه همیشه همارے ساتھ رهیں گے، دنیا کے آخر تک﴿متی 28باب20آیت﴾؛ وه همیں کبھی نه چھوڑے گا اور کبھی فراموش نه کریگا ﴿عبرانیوں13باب5آیت﴾؛ وه همارے درد اور دکھ کو جانتا هے، کیونکہ اس نے خود بھی همارے لئے دکھ اُٹھائے﴿1۔پطرس2باب21آیت﴾؛ اسکے پیارکی همارے لئے کوئی حد نهیں، اور وه همیں ایسی آزمائش میں نهیں پڑنے دیتا جو هماری برداشت سے باهر هو بلکه آزمائش کے ساتھ نکلنے کی راه بھی دکھاتا هے ﴿1۔کرنتھیوں10باب13آیت﴾۔ جب هم اپنے خاندان میں سے یا اپنی تهذیب میں سے پهلے هوں جو مسیح کو قبول کرے، تو هم خدا کے خاندان کا حصه بن جاتے هیں اور هم اسکے ایلچی بن جاتے هیں جس نے هم سے اور دنیا سے محبت رکھی۔ اس طرح هم اس کے آله کار بن جاتے هیں که دوسروں کو اسکی طرف کھینچ کر لائیں، همیں هر اس چیز میں برتری ملتی هے جو هم نے کبھی سوچی تھی



واپس اردو زبان کے پہلے صفحے پر



اگر ميں مسيحيت كو قبول كرتا هوں، ميرا خاندان مجھے قبول نه كريگا اور ميرے معاشرے كے لوگ مجھے بري طرح تكاليف ديں گے۔ تو پھر ميں كيا كروں؟