رُوح القدس کے خلاف کمہ کفر بکنا کیا ہے؟




سوال: رُوح القدس کے خلاف کمہ کفر بکنا کیا ہے؟

جواب:
آیت تک اور متی 30 سے 22 باب اُسکی 2 "روُح القدس کے خلاف کلمہ کفر بکنے کے تصور کی مرقس آیت تک میں نشان دہی کی گئں ہے۔ کفر بکنے کی اصطلاھ کی وضاحت عام طور پر 22 باب اُسکی 12 گستاخانہ بے حرمتی " کے طور پر کی جاتی ہے یہ اصطلاح اِس طرح کے گناہوں جیسا کہ خُدا کو ملامت کرنا یا دانستہ طور پر خُدا سے متعلقہ چیزوں کی کم مائںگی کرنے پر لاگو ہو سکتی ہے ۔ اس کا مطلب چند برائںاں خُدا کے ساتھ منسوب کرنا بھی ہے یا اُس کی چند اچھائںوں کا انکا ر ہے جو ہمیں اُس (خدا ) کے ساتھ منسوب کرنی آیت 32آیت اور 31باب اُسکی 12چاہئںں ۔ تاہم کفر بکنے کا یہ معاملہ ایک مخصوص معاملہ ہے ، جسے متی

فریسی ایک ناقابل اِنکار ثبوت کو دیکھ چکے تھے کہ یسوع روُح القدس کی قوت میں معجزے کر رہا تھا، اِس کے باوجود وہ دعوٰی کرتے تھے کہ خُداوند بدروحوں کے سردار "بعلز بول " کی مدد سے کر رہا ہے ۔ اب غور کریں کہ آیت میں یسوع اُن کے لیے مخصوص رویہ رکھتا ہے جو " رُوح القدس کے خلاف کفر بکتے 30 باب اُسکی 3مرقس

ہیں ۔ اِس کفر بکنے کا تعلق اُس شخص کے ساتھ ہے جو یسوع مسیح کے رُوح سے بھرے ہونے کی بجائے روحوں کے سردار کی مدد لینے کو قبول کرتا ہے ۔ نتیجے کے طور پر رُوح القدس کے خلاف کفر بکنے کا یہ خاص واقعہ آج کے دور میں نقل نہیں ہو سکتا ہے۔ یسوع مسیح زمین پر نہیں ہے، وہ خُدا کے داہنے ہاتھ بیٹھا ہوا ہے۔ کوئں بھی یسوع مسیح کو ایک معجزہ کرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا ہےاور پھر اِسے رُوح کی بجائے شیطان کی قوت سے منسوب کرے۔ اِس کی نزدیک ترین مثال ایک نجات یافتہ شخص کی تبدیل شدہ زندگی کے معجزے کو رُوح القدس کے اثرات کی بجائے شیطان کی قوت سے منسوب کرنا ہوگا۔

آج کے دور میں رُوح القدس کے خلاف کفر بکنا جو کہ ایک ناقابل معافی گناہ ہے۔ مسلسل بے ایمانی کی حالت ہے ۔ اُس شخص کے لیے کوئں معافی نہیں جو بے ایمانی کی حالت میں مرتا ہے ۔ یسوع المیسح میں بھروسہ رکھنے کے لیے روُح القدس کے عمل کا مسلسل انکار اُس کے خلاف نا قابلِ معافی کفر بکنا ہے ۔ یاد رکھیں کہ آیت میں کیا بیان ہواہے؟ "کیونکہ خُدا نے دُنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اُس نے اپنا اکلوتا 16باب اُسکی 3یوحنا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئں اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔" مزید اِسی باب میں آیت ہے ۔ " جو بیٹے پر ایمان لاتا ہے ہمیشہ کی زندگی اُس کی ہے لیکن جو بیٹے نہیں مانتا زِندگی کو نہ دیکھے ) ۔ صرف ایک حالت میں ہیں کسی ایک شخص کی معافی 3:36گا بلکہ اُس پر خُدا کا غضب رہتا ہے ۔" (یوحنا نہیں ہو پائے گی یہ ہے کہ وہ " جو اُس پر ایمان رکھتے ہیں " اُن میں سے نہیں ہے کیونکہ یہ وہ ہے جو " بیٹے کا انکار" کرتا ہے۔



واپس اردو زبان کے پہلے صفحے پر



رُوح القدس کے خلاف کمہ کفر بکنا کیا ہے؟