مسيحيت كيا هے؟ اور مسیحی کیا ایمان رکھتے ہیں ؟




سوال: مسيحيت كيا هے؟ اور مسیحی کیا ایمان رکھتے ہیں ؟

جواب:
1کرنتھیوں15باب1تا4آیت بتاتی هے، "اب اے بھائیو میں تمهیں وہی خوشخبری جتائے دیتا هوں جو پهلے دے چکا هوں جسے تم نے قبول بھی کرلیا تھا اور جس پر قائم بھی هو۔ اسی کے وسیله سے تم کو نجات بھی ملتی هے بشرطیکه وه خوشخبری جو میں نے تمهیں دی تھی یاد رکھتے هو ورنه تمهارا ایمان لانا بے فائده هوا۔ چنانچه میں نے سب سے پهلے تم کو وہی بات پهنچا دی جو مجھے پهنچی تھی که مسیح کتاب مقدس کے مطابق همارے گناهوں کے لئے موا ۔ اور دفن هوا اور تیسرے دن کتاب مقدس کے مطابق جی اُٹھا"۔

بهت تھوڑے سے لفظوں میں یه مسیحیت کا ایمان هے، مسیحی ایمان کو تمام دوسرے مذاهب سے بے مثال هے، کیونکه مسیحیت ایک مزہبی عمل کے بجائے ایک رشتے کو نام ہے ۔ اس کے بجائے که هم قوانین کی لمبی فهرست سے جڑے رهیں، ایک مسیحی کا مقصد یه هوتا هے که وه خدا باپ کے ساتھ ایک مضبوط تعلق اور رشتہ رکھے۔ یه تعلق ممکن بنا یسوع مسیح کے کام کی وجه سے اور روح القدس کی رہنمائی کے باعث۔

مسیحی ایمان کے بنیادی حصہ کے پیچھے بہت ساری وجوہات ہے، جو کہ ہونی بھی چاہیں، جو کہ یہ جاننے میں مدد کرتی ہیں کہ مسیحیت کیا ہے اور مسیحی ایمان کیا ہے۔ مسیحی ایمان رکھتے هیں که کلامِ مقدس الهامی اور هر غلطی سے پاک خدا کا کلام هے، اور اسکی تعلیم آخری اختیار هے ﴿۲۔تمھتیس3باب16آیت؛ 2۔پطرس1باب20تا21آیت﴾۔ مسیحی واحد خدا پر یقین رکھتے هیں جس میں تین شخصیات موجود هیں، باپ، بیٹا ﴿یسوع مسیح﴾ اور پاک روح۔

مسیحی ایمان رکھتے هیں که بنی نوع انسان کو خدا کے ساتھ تعلق اور رشتے کے لئے پیدا کیا گیا تھا، لیکن گناه نے تمام انسانوں کو خدا سے جدا کردیا ﴿رومیوں5باب12آیت؛ رومیوں3باب23آیت﴾۔ مسیحیت تعلیم دیتی هے که یسوع مسیح زمین پر آئے، کامل خدا کے طور پر ، اور ساتھ هی کامل انسان کے طورپر بھی ﴿فلیپوں 2 باب6تا11آیت﴾، اور صلیب پر جان دی۔ مسیحی ایمان رکھتے هیں که صلیب پر موت کے بعد یسوع کو دفنایا گیا، وه واپس جی اُٹھا ، اور اب خدا کے دهنے هاتھ بیٹھا هے، تا کہ ایمانداروں کے لیے همیشه کی شفاعت کرے﴿عبرانیوں7باب25آیت﴾۔ مسیحیت اعلان کرتی هے که یسوع کی صلیب پر موت هی کافی تھی جس سے مکمل طور پر گناه کا کفاره ادا کیا گیا جبکه انسان گناه کامقروض تھااور یه خدا اور انسان کے ٹوٹے هوئے رشتے کودوباره بحال کرتا هے ﴿عبرانیوں9باب11تا14آیت؛ عبرانیوں10باب10آیت؛ رومیوں6باب23آیت؛ رومیوں5باب8آیت﴾۔

نجات حاصل کرنے کے لئے ضروری هے که صرف اپنا مکمل ایمان مسیح کے صلیب پر ختم کئے گئے کام پر رکھیں۔ اگر کوئی یه ایمان رکھتا هے که مسیح اسکے لئے مرا اور اسکے گناهوں کے لئے قیمت ادا کی، اور پھر جی اُٹھا، تو اس شخص نے نجات پائی۔ یهاں کوئی بھی چیز یا عمل نهیں جس کو کرنے سے آپ نجات پا سکیں۔ ہم میں سے کوئی بھی اِس قدر راستباز نہیں کہ خدا کو پسند آ سکے یاپھر خود سے نجات حاصل کر سکے۔ کیونکہ ہم سب گنہگار ہیں۔ ﴿یسعیاه64باب6تا7آیت، یسعیاه53باب6آیت﴾۔ دوسرا، اس سے زیاده کوئی کچھ نهیں کرسکتا ، کیونکه مسیح نے سب کچھ کردیا جب وه صلیب پر تھا، یسوع نے کها، "تمام هوا"﴿یوحنا19باب30آیت﴾۔ جس کا مطلب ہے کہ تمام دنیا کی نجات اور رہائی کا کام مکمل ہوا۔

مسیحیت کے مطابق، نجات ایک آزادی کا نام ہے جو کہ ہمیں پرانی گناہ آلودہ فطرت سے ملی تا کہ ہم خدا کے ساتھ درست تعلق اور رشتہ رکھ سکیں۔ جہاں پہلے ہم گناہ کے غلام تھے وہاں اب ہم مسیح کے غلام ہیں۔ (رومیوں ۶ باب کی ۱۵سے ۲۲ آیات) جب تک ایمانداراِس زمین پر گناہ آلودہ بدن میں زندہ ہیں، تو وہ ہمیشہ تک گناہ کے خلاف جدوجہد میں مشغول رہتے ہیں۔ لہذا مسیحی فتح حاصل کرتے ہیں اُس گناہ آلودہ فطرت پر اور اُس جدو جہد کو جاری رکھتے ہیں کلامِ خدا کو پڑھنے سے اور خدا کے کلام پر عمل کر کے اور اپنی زندگی کو پاک روح کے اختیار میں دیتے ہوئے۔ اور یہ ہے اپنے آپ کو روح القدس کے حوالہ کر دینا ہر روز چاہے حالات کچھ بھی کیوں نہ ہو۔

یهاں پر ایسا کوئی کام نهیں جسے کرنے سے نجات حاصل کی جائے، جب کوئی مرد یا عورت مسیح کے صلیب پر کئے گئے کام پرایمان رکھتا هے، تو یه ممکن هی نهیں که وه مرد یا عورت اپنی نجات کو کھو دے۔ یاد رکھیں،نجات کا کام مکمل هوچکا هے اور مسیح نے پورا کیا هے نجات پانے کیلئے محتاج نهیں جو اسے حاصل کرتا هے یوحنا10باب27تا29آیت بیان کرتی هے، "میری بھیڑیں میری آواز سنتی هیں اور میں انهیں جانتا هوں اور وه میرے پیچھے پیچھے چلتی هیں اور میں انهیں همیشه کی زندگی بخشتا هوں اور وه ابد تک کبھی هلاک نه هوں گی اور کوئی انهیں میرے هاتھ سے چھین نه لیگا۔ میرا باپ جس نے مجھے وه دیں هیں سب سے بڑا هے اور کوئی انهیں باپ کے هاتھ سے نهیں چھین سکتا"۔

کچھ یه سوچتے هونگے، "یه بهت اچھا هے ایک بار میں نے نجات پائی هے، میں اپنی مرضی سے کچھ بھی کرسکتا هوں اور میں اپنی نجات نهیں کھو سکتا "لیکن نجات کا هرگز یه مطلب نهیں که آپ بے باک هوکر کچھ بھی کریں۔ نجات پرانی گناه کی فطرت سے چھٹکار ا دلاتی هے اور خدا کے ساتھ اچھے رشتے کی پیروی کرواتی هے۔ جتنی دیر تک ایماندار اپنے گناه آلوده جسموں کے ساتھ زمین پر رهیں گے، یهاں پر ثابت قدمی سے کوشش کرتے رهیں جو آپ کو گناه میں نه جانے دے۔ گناه میں رهنا خدا کے ساتھ همارے رشتے کی روکاٹ هے جو خدا بنی نوع انسان میں ڈھونڈتا هے، جتنی دیر تک کوئی ایماندار گناه میں زندگی گزارتا هے ، وه خدا کے ساتھ رشتے کا مزا نهیں اُٹھا سکتا جب که وه خدا کو مدِ نظر نه رکھے۔ تاهم ، مسیحی کوشش کرکے گناه پر فتح یابی حاصل کرسکتے هیں، کلامِ مقدس کا مان کر اور خدا کے کلام کو اپنی زندگیوں میں لاگو کر کے اور پاک روح کے اختیار سے جوکه ، روحانی اثر اور روزمره زندگی میں راهنمائی کی اطاعت کرے ، اور روحانی طور پر خدا کے کلام کی تابعداری کرے۔

پس، جبکه بهت سارے مذهبی نظام کسی شخص سے تقاضا کرتے هیں که وه یه کرے اور یه نه کرے، مسیحیت خدا کے ساتھ تعلق رکھنے کے بارے میں هے۔ مسیحیت ایمان رکھنے کے بارے میں هے که مسیح نے صلیب پر همارے ذاتی گناه کے لئے اپنی جان کی قیمت ادا کی ، اور پھر جی اُٹھا۔ آپکے گناه کا قرض ادا کر دیا گیا هے اور آپ خدا کے ساتھ رفاقت رکھ سکتے هیں۔ آپ اپنی گناه بھر ی فطرت پر فتح پا سکتے هیں اور خدا کے ساتھ رفاقت اور تابعداری میں ره سکتے هیں۔ یه کلامِ مقد س کے مطابق سچی مسیحیت هے



واپس اردو زبان کے پہلے صفحے پر



مسيحيت كيا هے؟ اور مسیحی کیا ایمان رکھتے ہیں ؟