کلونیت بمقابلہ آرمینیت ۔ کون سا نکتہ نظر ٹھیک ہے ؟




سوال: کلونیت بمقابلہ آرمینیت ۔ کون سا نکتہ نظر ٹھیک ہے ؟

جواب:
کلونیت اور آرمینیت علمِ الہیات کے دو نظام ہیں جو کہ خدا کی حاکمیت اور نجات کے معاملے میں انسان کی ذمہ داری کے درمیان رشتے کی وضاحت کرنے کی کوششش کر تے ہیں ۔ کلونیت ایک فرانسیسی عالمِ الہیات کے نام پر ہے جو کہ 1509 عیسوی سے 1564 عیسوی تک زندہ رہا ۔ آرمینیت جیکو بس آرمینیس ایک ولندیزی عالمِ الہیات کے نام سے ہے جو کہ 1560عیسوی سے 1609 عیسوی تک زندہ رہا تھا ۔

دونوں نظاموں کا پانچ نکات کے ساتھ خلاصہ بیان کیا جا سکتا ہے ۔ کلونیت انسان کی مکمل خلقی بدی پر اعتقا رکھتی ہے جبکہ آرمینیت انسان کی جُزوی خلقی بدی پر اعتقاد رکھتی ہے ۔ مکمل خلقی بدی انسان کے پر پہلو کے گناہ کے سبب سے پراگندہ ہونے کو بیان کر تی ہے ، تاہم بنی نوع انسان اپنے ارادی یا غیر ارادی افعام کے سبب سے خدا تک رسائی حاصل کرنے کے اہل ہیں ۔ جُزوی خلقی بدی پر اعتقاد یہ بیان کرتا ہے کہ انسان کا ہر پہلو گناہ کے سبب سے پراگندہ ہے ۔ لیکن اِس حد تک نہیں ہے کہ وہ اپنے ارادی یا غیر ارادی افعال کے سبب خدا میں ایمان رکھنے کے قابل نہیں ہیں ۔

کلونیت میں یہ عقیدہ بھی شامل ہے کہ چناو غیر مشروط ہے جبکہ آرمینیت ایمان رکھتی ہے کہ چناو مشروط ہے ۔ غیر مشروط چناو کا نکتہ نظر یہ ہے کہ خدا افراد کو نجا ت کے لیے صرف مکمل طور پر اپنی مرضی کی بنیاد پر چُنتا ہے نہ کسی شخص میں پیدائشی طور پر موجود خصائل کی بنیاد پر چُنتا ہے ۔ مشروط چناو بیان کرتا ہے کہ خدا افراد کو نجات کے لیے اپنے بیش آگاہی کے علم کہ کون نجات کے مسیح میں ایمان رکھے گا ، اِس شرط کے سبب ے ایک فرس خدا کو منتخب کرنے کی بنیاد پر چُنتا ہے ۔

کلونیت کفارے کو محدود طور پر دیکھتی ہے جبکہ آرمینیت اِسے لا محدود طور پر دیکھتی ہے ۔ یہ پانچ نکات میں سب سے زیادہ اختلافِ رائے رکھنے والا نکتہ نظر ہے ۔ یہ پانچ نکات میں سے سیے زیادہ اختلاف ِ رائے رکھنے والا نکتہ ہے ۔ محدود کفارہ یہ عقیدہ ہے کہ یسوع صرف چُنے ہوئے لوگوں کے لیے مُوا ۔ لامحدود کفارہ یہ عقیدہ ہے کہ یسوع سب کے لیے مُوا ۔ لیکن یہ کہ اُس کی موت اُس وقت تک موثر نہیں ہوتی جب تک ایک شخص ایمان کے ساتھ اُسے قبول نہیں کرتا ہے ۔

کلونیت میں یہ عقیدہ شامل ہے کہ خدا کا فضل ناقابلِ مزاحمت ہے جبکہ آرمینیت بیان کر تی ہے کہ ایک شخص خدا کے فضل کی مزاحمت کر سکتا ہے ، ناقابلِ مزاحمت فضل دلیل دیتا ہے کہ جب خدا نجات کے لیے ایک شخص کو بُلاتا ہے یہ شخص حتمی طور پر نجات کی طرف آئے گا ۔ مزاحمت کے قابل فضل اِس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ خدا سب کو نجات کےلیے بُلاتا ہے ، لیکن یہ کہ بہت سارے لوگ اِس پُکار کی مزاحمت اور اِسے رد کر تے ہیں ۔

کلونیت اولیا کی استقامت پر اعتقاد رکھتی ہے جبکہ آرمینیت مشروط نجات پر اعتقاد رکھتی ہے۔ اولیا کی استقامت اِس خیال کا حوالہ دیتی ہے کہ ایک شخص جو کہ خدا کی طرف سے چُنا گیا ہے ایمان میں اور میسح کا مستقل انکار یا اُس سے جو انحراف نہیں کرے گا ۔ مشروط نجات کا نکتہ نظر یہ ہے کہ سیح میں ایک ایماندار اپنی آزاد مرضی سے مسیح سے منحرف ہو سکتا ہے اور اِس کے باعث اپنی نجات کھو دیتا ہے ۔

پس کلونیت بمقابلہ آرمینیت کی بحث میں کون ٹھیک ہے ؟ اِس بات پر غور کرنا دلچسپ امر ہے کہ مسیح کے جسم کی تنوع (بناوٹ) میں کلونیت اور آرمینیت کے تمام ہمہ قسم کے مرکبات موجود ہیں ۔ یہاں پر کُلونی پانچ نکات اور پانچ آرمینی نکات ہیں ، اور بالکل اِسی وقت تین کلونی نکات اور دو آرمینی نکات ہیں ۔ کچھ ایماندار دونوں نکتہ نظر ے کچھ طرح کے مرکب تک پہنچتے ہیں ۔ آخر کار یہ ہمارا نظریہ ہے کہ دونوں نظام اِس میں ناکام ہو جاتے ہیں جو کہ وہ ناقابلِ وضاحت کی وضاحت کرنے کی کوشش ر تے ہیں ۔ بنی نوع انسان اِس طرح کے کسی ایک خیال کو مکمل طور پر سمجھنے کی استعداد رکھنے کے اہل نہیں ہیں ۔ جی ہاں خدا بالکل آزاد ہے اور سب کچھ جانتا ہے ۔ جی ہاں بنی وع انسان کو نجات کے لیے مسیح میں ایمان لانے کا حقیقی فیصلہ کرنے کے لیے بُلایا جاتا ہے ۔ یہ دونوں حقائق ہمارے لیے اختلافِ رائے رکھتے ہیں لیکن خدا کی حکمت میں وہ بالکل ٹھیک احساس رکھتے ہیں ۔



واپس اردو زبان کے پہلے صفحے پر



کلونیت بمقابلہ آرمینیت ۔ کون سا نکتہ نظر ٹھیک ہے ؟